13 اگست 2026 - 17:00
الحدیدہ سے باب المندب تک؛ یمن پر سعودی منصوبے کے خلاف صنعاء کی جوابی کارروائی تیز

مغربی یمن میں سعودی عرب کی جانب سے نئے محاذ کے آغاز کی تیاریوں کی اطلاعات کے بعد یمنی مسلح افواج نے بحیرۂ احمر کے ساحل پر سعودی فوجی اڈوں اور اسلحہ ڈپوؤں کے خلاف حملوں میں اضافہ کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ریاض امریکی و برطانوی تعاون سے الحدیدہ کے جنوب سے ایک نئی فوجی کارروائی شروع کرنے کی تیاری کررہا تھا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنانی اخبار الاخبار کی حاصل کردہ معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمنی مسلح افواج نے سعودی عرب کی جانب سے مغربی یمن کے ساحلی علاقے میں بڑے پیمانے پر جنگ شروع کرنے کی تیاریوں کی اطلاعات ملنے کے بعد اس علاقے میں سعودی اسلحہ ڈپوؤں کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب امریکا اور برطانیہ کے ساتھ رابطے میں ایسی کارروائی کی تیاری کررہا تھا، جس کا آغاز الحدیدہ شہر کے جنوب سے کرکے اسے شہر کے شمالی علاقوں تک پھیلانے کا منصوبہ تھا۔

اس کارروائی کے لیے بحیرۂ احمر میں بین الاقوامی بحری جہاز رانی کے تحفظ کا نعرہ استعمال کیا جانا تھا، تاہم ذرائع کے مطابق اس کا اصل مقصد امریکا کے لیے باب المندب آبنائے میں وسیع اثر و رسوخ قائم کرنے اور یمن کی جانب سے سعودی بحری جہاز رانی پر عائد پابندی ختم کرنے کی راہ ہموار کرنا تھا۔

مغربی یمن میں یمنی حملوں میں اضافہ

رپورٹ کے مطابق یمنی مسلح افواج نے گزشتہ چند روز کے دوران مغربی یمن میں ریاض نواز گروہوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ یہ حملے ایک ہفتے سے زائد عرصے سے جاری ہیں، جبکہ مشرقی یمن میں سعودی عرب سے وابستہ ہنگامی دستوں کے خلاف کارروائیاں نسبتاً محدود رہی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا جس مقصد کو گزشتہ عرصے میں آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں حاصل نہیں کرسکا، اب اسے سعودی عرب کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ سعودی عرب نے رواں سال کے آغاز سے ان یمنی صوبوں میں فوجی فیصلوں پر اپنا کنٹرول بڑھایا ہے جو انصار اللہ کے زیرِ کنٹرول نہیں ہیں۔

یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر یحییٰ سریع کی جانب سے دو روز قبل دوسری مرتبہ سعودی فوجیوں کو درجنوں میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کے اعلان کے بعد بھی فضائی کارروائیاں جاری رہیں۔

ان حملوں میں اسلحہ ڈپو، فوجی سازوسامان اور کمک کے لیے آنے والے دستے بھی نشانہ بنے۔ اسی دوران مغربی تعز کے شہر المخا کے ساحل کے قریب «تہامہ» نامی ایک بحری جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جو اسلحہ اور فوجی سازوسامان لے جارہا تھا۔

صنعاء: الحدیدہ میں نیا محاذ کھولنے کا سعودی منصوبہ ناکام

المخا شہر کے میدانی ذرائع نے بتایا ہے کہ یمنی فضائی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق یمنی مسلح افواج کا خیال ہے کہ وہ الحدیدہ میں نیا محاذ کھولنے کے سعودی منصوبے کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔

دوسری جانب عدن حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ یمنی مسلح افواج کی جانب سے جن حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے، وہ ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کی ہدایت پر کیے گئے۔ سعودی عرب نے بھی یمن کے حالیہ حملوں کے حوالے سے اسی نوعیت کا مؤقف اختیار کیا ہے۔

ان حملوں میں ریاض نواز فورسز کے «العبر»، «الوریوک» اور «الثنیہ» کے علاقوں میں قائم ٹھکانوں کے علاوہ مغربی مأرب میں سعودی اتحاد کے «تداوین» کیمپ میں قائم آپریشنز مرکز کو بھی نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔

تین محاذ؛ الجوف، مأرب اور مغربی ساحل

بعض مبصرین کے مطابق یمنی مسلح افواج کی کارروائیوں کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسوب کرنا اس بات کی علامت ہے کہ سعودی عرب یمنی مطالبات تسلیم کرنے سے گریز کی کوشش کررہا ہے۔

ان مبصرین کا کہنا ہے کہ ریاض یمن کے اندر تین محاذوں، یعنی الجوف، مأرب اور مغربی ساحل، کو دوبارہ فعال کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔

تاہم لبنانی اخبار الاخبار سے بات کرنے والے ذرائع کے مطابق سعودی عرب کا مقصد صرف یمنی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنا نہیں بلکہ ایک امریکی۔برطانوی منصوبے پر تیزی سے عمل درآمد کی راہ ہموار کرنا بھی ہے، جس کا مقصد بحیرۂ احمر اور باب المندب پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی ماہ کے دوران یہ معاملہ یمن میں امریکا کے سابق سفیر اسٹیون فاجن اور مغربی یمن کے ساحلی علاقوں میں سعودی اتحاد سے وابستہ فوجی گروہوں کے کمانڈروں کے درمیان بڑے پیمانے پر زیرِ بحث رہا ہے۔

یمنی مسلح افواج دو سال سے تیاریاں کررہی تھیں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغربی یمن کے ساحلی علاقے میں کشیدگی بڑھانے کی سعودی منصوبہ بندی یمنی مسلح افواج کی جانب سے سعودی بحری جہازوں کے خلاف بحری حملوں میں حالیہ اضافے سے کئی ماہ پہلے ہی شروع ہوگئی تھی۔

دوسری جانب یمنی مسلح افواج بھی ان منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے طویل عرصے سے تیاری کررہی تھیں۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران انہوں نے جنوبی الحدیدہ میں حیس، الحیمہ اور الخوخہ کے علاقوں میں محاذِ جنگ کے قریب اپنے دفاعی ٹھکانوں کو مزید مضبوط کیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha